پاکستان میں فیلڈ مارشل کا عہدہ: تاریخ، اہمیت اور جنرل عاصم منیر کی حالیہ ترقی
پاکستان کی فوجی تاریخ میں فیلڈ مارشل کا عہدہ بہت کم افسران کو دیا گیا ہے اور یہ رینک کسی بھی فوج میں سب سے اعلیٰ منصب کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ عہدہ عسکری قیادت کے شاندار کارناموں، جنگی حکمت عملی، اور قومی دفاع میں غیر معمولی خدمات کا اعتراف کرنے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ 2025 میں جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینا ایک سنگ میل ہے، جو پاکستان کی فوجی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتا ہے۔

فیلڈ مارشل کا عہدہ: تعریف اور اہمیت
فیلڈ مارشل کا عہدہ ایک اعزازی رینک ہے جو عام طور پر جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے افسران کو دیا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی فوجوں میں یہ عہدہ صرف بہت کم افسران کو دیا جاتا ہے اور یہ عہدہ کسی فوجی افسر کے لیے ایک بڑی کامیابی اور اعزاز ہوتا ہے۔ اس کا مقصد صرف افسر کی ذاتی کامیابی کو تسلیم کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی قیادت اور فوجی حکمت عملی کے حوالے سے اس کے کردار کا اظہار بھی ہے۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل کا عہدہ عسکری حکمت عملی اور جنگی کامیابیوں کا عکاس ہوتا ہے اور یہ فوج کے سب سے اعلیٰ رینک کی علامت ہے۔ پاکستان میں یہ عہدہ خاص طور پر اس وقت دیا جاتا ہے جب فوجی افسر نے اپنی خدمات کے ذریعے ملک کی دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی کام کیا ہو۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل کے عہدے کے حامل افسران
پاکستان کی فوج میں فیلڈ مارشل کا رینک صرف چند افسران کو دیا گیا ہے۔ ان میں سے دو بہت نمایاں شخصیات ہیں:
1. جنرل ایوب خان (Field Marshal Muhammad Ayub Khan)
پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل اور پہلے فوجی حکمران، جنرل ایوب خان کو 1958 میں مارشل لا نافذ کرنے کے بعد فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں 1965 کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ کامیاب دفاع کیا تھا۔ جنرل ایوب خان نے فوجی حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے اور ملک کے سیاسی معاملات میں بھی گہری مداخلت کی۔ ان کی قیادت نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی حکمت عملی فراہم کی۔
2. جنرل یحییٰ خان (Field Marshal Yahya Khan)
جنرل ایوب خان کے بعد، 1969 میں جنرل یحییٰ خان کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ ان کی قیادت میں 1971 کی جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں آزادی کا اعلان کیا گیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ جنرل یحییٰ خان کی قیادت میں پاک فوج کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم ان کی فوجی حکمتِ عملی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
3. جنرل عاصم منیر (Field Marshal Asim Munir)
پاکستان کے موجودہ آرمی چیف، جنرل عاصم منیر کو 20 مئی 2025 کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ جنرل منیر کو یہ اعزاز ان کی عسکری حکمتِ عملی، جنگی قیادت، اور آپریشن "بنیان مرصوص” میں کامیاب کارکردگی کے بدلے دیا گیا۔ ان کی قیادت میں پاکستانی فوج نے نہ صرف دفاعی حکمت عملی میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں بلکہ دشمن کے حملوں کا بھی مؤثر جواب دیا۔
جنرل عاصم منیر کی ترقی: ایک اہم سنگ میل
جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی ایک اہم فیصلہ تھا جو حکومتِ پاکستان نے 20 مئی 2025 کو کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کو منظور کیا گیا۔ اس ترقی کے پیچھے جنرل عاصم منیر کی شاندار عسکری خدمات اور پاکستانی فوج کی ساکھ کو مضبوط بنانے کا مقصد تھا۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف داخلی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کئی کامیاب فوجی آپریشنز کیے۔ ان کے آپریشن "بنیان مرصوص” نے پاکستانی فوج کو ایک نئی توانائی بخشی اور دشمن کی متعدد حملوں کو ناکام بنایا۔ جنرل منیر نے اس ترقی کو پاکستان کی مسلح افواج کی مشترکہ کامیابی اور قوم کے تعاون کا نتیجہ قرار دیا۔
نتیجہ
پاکستان میں فیلڈ مارشل کا عہدہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو انتہائی مہارت اور کامیابیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ یہ پاکستان کی فوج کی مکمل عسکری مہارت اور قومی دفاع میں ان کے کردار کا اعتراف ہے۔ جنرل منیر کی قیادت میں پاکستانی فوج نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں، اور ان کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی فوج اپنے دفاعی مقاصد میں مزید کامیاب ہوگی۔
اس ترقی کے بعد، جنرل عاصم منیر پاکستان کی فوج میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے افسر بن گئے ہیں، جنہوں نے جنرل ایوب خان کے بعد اس بلند مقام کو حاصل کیا۔ یہ ترقی پاکستانی فوج کی شجاعت، دفاعی حکمتِ عملی اور قومی سلامتی میں ان کی کامیابیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔