مہنگائی کو کم کرنے کے حکومتی دعوے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پوشیدہ نظر آتے ہیں جس کا براہ راست اثر روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
معاشی ریلیف کے وعدوں کے باوجود صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایک اور اضافہ قریب ہے۔ پیٹرول کی قیمت 3 روپے فی لیٹر بڑھ سکتی ہے جس سے قیمت 256.13 روپے سے بڑھ کر 259.13 روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح، ڈیزل میں 6 روپے کا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، جس کی قیمت 260.95 روپے سے 266.95 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی اونچی سطح پر ہیں، اس میں مزید اضافہ متعدد صنعتوں پر دور رس نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے محنت کش طبقہ پر براہ راست اثر پڑتا ہے جس سے روز مرہ کی زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔
قیمتوں میں اس اضافہ کو موجودہ حکومت کی نااہلی تصور کیا جارہا ہے،موجودہ حکومت سابقہ حکومت کے اس اقدام کو ہمیشہ شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے لیکن موجودہ حکومت بھی اس اضافہ پر کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے۔
مزید پڑھیے:لاہور میں ہونے والے میچ کے تمام ٹکٹس بِک گئے
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر عوام سوشل میڈیا پر ہمیشہ سرگرم دکھائی دیتی ہے جہاں وہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتے ہیں اور مختلف پوسٹیں شیئر کرتے ہیں۔