آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں جمعرات کو ایک واقعہ رونما ہوا جس کے بعد ڈاکٹرز نے ملازمین سمیت ہڑتال کا اعلان کر دیا،ہڑتال تقریباً چار گھنٹے جاری رہی،اس دوران ایمرجنسی سروس کو چھوڑ کر باقی تمام سروسز بند رہی۔
یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب مریض کیساتھ آئے ایٹنڈنٹ اور کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی،معمولی تلخ کلامی بڑھتی گئی جس میں دیگر ملازمین بھی کود پڑے جو کہ بعد میں ایک بڑا معاملہ بن گیا۔
تلخ کلامی کے دوران ایم ایس ہسپتال بھی پہنچ گئے،بقول ایم ایس ہسپتال کے،اُنکے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی ہے،معاملہ حل نہ ہو سکا جو کہ ہڑتال کی جانب گیا۔
اس تلخ کلامی کے بعد باغ پولیس کو بھی ہسپتال میں بلایا گیا جس نے حکمت سے معاملہ حل کروانے کی کوشش کی لیکن ہسپتال انتظامیہ کا یہی مؤقف تھا کہ ملزم کو گرفتار کر کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور ہمیں انصاف دیا جائے۔
ملزم جس پر زیر دفعہ apex 353/186 کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے کا کہنا تھا کہ میں اپنے والد کو لیکر ہسپتال آیا،میرے والد کو دل کا درد تھا،جب ڈاکٹر نے میرے والد کا چیک اپ کیا تو ڈاکٹر نے میرے والد سے پوچھا آپکو دل کا درد ہے؟تو والد نے کہا ہاں دل کا درد ہے۔
اسی دوران ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اسٹنٹ ڈلوانے ہیں تو والد نے ہاں بولا،پھر سوال ہوا کہ ہارٹ اٹیک کے بعد اسٹنٹ دلوائے تھے،تو والد نے کہا کہ اٹیک کے بغیر کیسے یہ علاج ہو سکتا ہے؟تو ڈاکٹر نے جواب دیا کہ میں ڈاکٹر ہوں اور یہ تمام چیزیں پوچھنا میرا کام ہے،جس پر تلخ کلامی شروع ہوئی،اسی اثناء میں میں ایم ایس کے آفس جانے کے لیے مڑا کہ جاکر شکایت کروں تو سامنے ایم ایس ہسپتال کو آتے دیکھا،انھوں نے اتے ساتھ مجھے پکڑا اور کہا اسے روم میں لے چلو،اسکے بعد تین چار ملازمین نے مجھے پکڑا،اور مجھے گھسیٹ کر اندر لے جانے کی کوشش کی،جس پر میں نے بھی منہ سے الٹے سیدھے الفاظ استعمال کیے۔
ملزم نے مزید کہا کہ ہسپتال سے اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تو سب بات کلیئر ہو جائے گی،اصل قصوروار کون ہے وہ بھی معلوم ہو جائے گا ،ویڈیو میں اگر میرا قصور نظر آتا ہے تو مجھے سزا دی جائے اور اگر میرا قصور نہیں ہے تو مجھے انصاف دیا جائے۔
ڈاکٹر نے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ میرا کام ہے مریض کی ہسٹری پوچھنا،میں نے وہی کام کیا جس پر مریض کے ساتھ ائے شخص کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں تھا،اس شخص نے میرے ساتھ ایک دو بندے اور کے ساتھ بھی بدتمیزی کی ہے،اگر مریض ہمیں اپنی ہسٹری نہیں بتائے گا تو ہم میڈیسن کیسے لکھیں گے۔
اس واقعے کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال جاری رکھی اور انتظامیہ کو وارننگ دی کہ اگر ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو یہ ہڑتال جاری رہے گی،بعدازاں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر کہ اسے گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد ملازمین اور ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی۔
ڈاکٹرز نے کہا کہ جو بھی لائحہ عمل دیا جائے گا وہ تمام احباب کی مشاورت سے دیا جائے گا،راتوں رات کوئی بھی فیصلے نہیں کئے جائیں گے،ملی مشاورت سے ہی تمام کام کیا جائے گا۔